دستور

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو جہل کی...

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے اے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو...

فاریحہ نگارینا – جون ایلیا

فاریحہ نگارینا تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجے مجھ کو فکر رہتی ہے آپ انہیں گنوا دیجے آپ کا کوئی ساتھی دیکھ لے تو کیا ہو گا دیکھیے میں کہتی ہوں یہ بہت بُرا ہو گا میں بھی کچھ کہوں تم سے اے مری فروزینہ زشکِ سروِ سیمینا اے بہ نازُکی مینا اے بہ جلوہ آئینہ میں تمہارے...

زندہ رہنا ہے تو پھر یوں ہی سہی

زندہ رہنا ہے تو پھر یوں ہی سہی  ظلم سہنا ہے تو پھر یوں ہی سہی  دو گھڑی پہلے ہی آیا تھا وہ شخص  پھر اٹھا ، لوٹ گیا ، یوں ہی سہی  مجھ سے کہتا تھا مجھے جینے دو  جب چھٹا، مارا گیا، یوں ہی سہی  “بات سے میری اختلاف نہ کر”  اس پہ بھی اختلاف، یوں ہی سہی  اس نے ایک...